بنگلورو، 20؍ مارچ(ایس او نیوز؍ ایجنسی) گجرات کے طرزپرکرناٹک کے اسکولوں میں بھگوت گیتا کو شامل کرنے پر کانگریس لیڈر کے رحمن خان نے کہا کہ بی جے پی کی خود غرضی اس میں مضمر ہے۔ ہر مذہبی کتاب مذہب کی تعلیم دیتی ہے، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ صرف گیتا ہے جو مذہب یا ہندوستانی ثقافت کی تعلیم دیتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو تمام مذہبی کتابوں کو نصاب میں شامل کیا جائے۔بھوپیندر بھائی پٹیل کی قیادت والی گجرات حکومت نے تعلیمی سال 2022 سے 6ویں سے 12ویں جماعت کے اسکول کے نصاب میں بھگوت گیتا کو شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ جس پر کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے اس قدم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ہماری ریاست میں بھی اٹھایا جائے گا، اگر ماہرین اسے منظور کرتے ہیں تو اسے اگلے تعلیمی سیشن میں شامل کیا جائے گا۔ اب اس معاملے میں کانگریس لیڈر رحمان خان نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہاہے کہ ایسا کرنے کے پیچھے بی جے پی کی خود غرضی ہے۔ خان نے کہاہے کہ ہر مذہبی کتاب مذہب کی تعلیم دیتی ہے، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ صرف گیتا ہے جو مذہب اور ہندوستانی ثقافت کی تعلیم دیتی ہے۔ طلبہ کو تمام مذہبی کتابیں پڑھائی جانی چاہئیں۔ نئی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے بی جے پی نے اس میں دلچسپی لی ہے۔ہندوتوا پالیسی کو چھپانے کے لیے، اور کچھ نہیں۔
دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے بھگوت گیتا کو اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کے گجرات حکومت کے فیصلے پرتنقیدکی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ یقیناً یہ بہت اچھا قدم ہے لیکن جو لوگ اسے پیش کر رہے ہیں انہیں پہلے گیتا کی اقدار پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے کرتوت راون کی طرح ہیں اوروہ گیتاکی بات کرتے ہیں۔